ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکز اور ایس سی ؍ایس ٹی ملازمین کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، پرموشن میں ریزرویشن جاری رکھنے کی اجازت

مرکز اور ایس سی ؍ایس ٹی ملازمین کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، پرموشن میں ریزرویشن جاری رکھنے کی اجازت

Wed, 06 Jun 2018 11:23:17    S.O. News Service

نئی دہلی،5؍جون(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) مرکزی حکومت کو بڑی راحت دیتے ہوئے آج سپریم کورٹ نے ایس سی؍ایس ٹی زمرے سے وابستہ سرکاری ملازمین کے پرموشن میں ریزرویشن جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ عدالت عظمیٰ نے ان عواقب کو سامنے رکھاکہ مختلف عدالتوں میں دیئے گئے احکامات سے یہ معاملہ 2015ء سے التوا میں پڑاتھا۔ اب یہ معاملہ صاف ہوگیاہے کہ ایس سی؍ایس ٹی ملازمین کو قانونی طورپر پرموشن میں ریزرویشن ملتا رہے گا۔ سپریم کورٹ نے منگل کے دن احکامات جاری کرتے ہوئے کہاکہ حکومت پرموشن میں ریزرویشن جاری رکھے۔ جب تک کہ اس معاملہ میں آئینی بنچ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ جائے۔ حالانکہ عدالت نے یہ طے نہیں کیا ہے کہ اس کے لئے کس قانون پر عمل کیا جائے۔ معلوم ہوکہ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کے پرموشن میں ریزرویشن رد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیاتھا۔ مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے اس معاملہ پر سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی بات کہی تھی۔ 

پرموشن قانونی طریقہ سے دیا جائے:مرکزی سرکار کی عرضی پر سپریم کورٹ کی وکیشن بنچ سماعت کررہی ہے۔ اس میں جسٹس آدرش کمار گوئل اور جسٹس اشوک بھوشن شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے کہاگیا کہ پرموشن میں ریزرویشن کو لے کر کئے گئے بیشتر ہائی کورٹ کے فیصلوں کے درمیان یہ معاملہ معلق رہا۔ اڈیشنل سالیسٹر جنرل منندرسنگھ نے بنچ سے کہاکہ اس پر قطعی فیصلہ ہونا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ پرموشن قانونی طریقہ سے دیاجائے۔ فی الوقت ہم یہ نہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اس کے لئے کیا قانون چاہئے۔ اس پر آئندہ آئینی بنچ فیصلہ کرے گی۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ آنے تک پرموشن میں ریزرویشن دیا جاسکتاہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اڈیشنل سالیسٹرجنرل منندرسنگھ نے کہاکہ حکومت پرموشن میں ریزرویشن دینے کے لئے پابند ہے۔ لیکن ہائی کورٹ کے فیصلوں کی وجہ سے اس پر روک لگ گئی ہے۔ واضح ہوکہ 15؍ نومبر2017ء کو سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو غور کرنے کے لئے آئینی بنچ کے حوالہ کیاتھا۔ مہاراشٹرا حکومت بنام وجئے گھوگرے کے معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل اندراجئے سنگھ نے کہاتھا کہ این ناگراج کے معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بدلا جانا چاہئے۔ سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہاتھاکہ ناگراج کے معاملہ پر پھر سے نظر ثانی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے 2016ء میں چیف جسٹس کے ذریعہ دیئے گئے ایک فیصلہ کو پڑھتے ہوئے کہاکہ ناگراج معاملہ پر تفصیلی فیصلہ سنایا گیاہے جس میں کئی اصول ہیں۔ اس لئے یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔ ہم جنرل زمرے کے ہیں جنہیں ہر سطح پر جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے ساتھی یعنی ایک ساتھ تعلیم سے فارغ ہوئے احباب ہم سے تین درجہ اونچے عہدے پر ہیں۔ اس طرح کی ناانصافی بند ہونی چاہئے۔ سینئر وکیل راجیو دھون نے کہاتھاکہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کو بالائی سطح (کریمی لیئر) کا فائدہ نہیں ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کی دفعہ 16 (14) اے میں عدم مساوات اور پسماندگی کا ذکر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دفعہ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لئے ہے۔


Share: